بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل پاسدار محسن رضائی نے نے پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کے اعلی وفود کے دورہ تہران اور تہران میں علاقائی سلامتی پر غور کرنے کے لئے منعقدہ چار ملکی اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
ہم نے سعودی، پاکستانی اور ترک دوستوں کو مدعو نہیں کیا تھا، انہوں نے خود درخواست کی کہ ایران کے دورے پر آئیں اور ہم سے ملیں اور خطے کے انتظامات کے بارے میں آپس میں بات کریں۔
اس موقع پر، باضابطہ مباحث میں مکہ کے معاہدے اور یمن کے مسئلے پر بات نہیں ہوئی اور تمام باتوں کا محور یہ تھا کہ خطے کے مستقبل کے انتظامات کیسے ہونے چاہئیں۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ میں نے سوچا کہ یہ لوگ ہمارے بہت سے حزب اللہی دوستوں سے بھی زیادہ حزب اللہی اور انقلابی ہو گئے ہیں؛ کیونکہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف انتہائی فیصلہ کن اور دو ٹوک انداز سے بات کی۔
سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا: آپ کے بعد، اسرائیل ترکیہ کی طرف جائے گا اور اس کے بعد ہماری طرف، ـ یعنی سعودی عرب ـ کی طرف آئے گا۔
ترکیہ کے انٹیلی جنس اور سلامتی اداروں کے سربراہ ابراہیم کالین نے بھی اسرائیل کے خطرے کے بارے میں صریح انداز سے اظہار خیال کیا، یہاں تک کہ پاکستان کے آرمی چیف جناب عاصم منیر نے ہندوؤں اور یہودیوں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف جوڑ توڑ اور باہمی رشتے کی بات کی جو تشکیل پا رہا ہے۔ یہ باتیں مستند معلومات اور خدشات پر مبنی ہیں جو انہیں اپنے مستقبل اور اسرائیل کی طرف سے انہیں درپیش حقیقی خطرات کواجاگر کرتے ہیں۔
ان ہی حقائق کی رو سے، ہم ایک اچھے نتیجے پر پہنچے اور ترجیحات ـ یعنی پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی ترجیح ـ کا تعین کیا۔ ہم نے اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کے دفاع اور اسرائیل کے جنوبی لبنان، جنوبی شام، غزہ اور مغربی کنارے سے انخلاء کی ترجیح کے بارے میں آپس میں بات کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ